5 جولائی 2012 - 19:30

بحرين کے عوام نے آل خليفہ حکومت کے لئے امريکا اور برطانيہ کي حمايت کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں ميں مظاہرے کئے ہيں۔

ابنا: آل خليفہ حکومت کے سيکورٹي اہلکاروں کے انتباہات کے باوجود بحرين کے انقلابي نوجوانوں کے اتحاد نے جمعے  کو ملک ميں مظاہرے کرکے آل خليفہ حکومت کے لئے امريکا اور برطانيہ کي حمايت کي مذمت کرنے کي کال دي تھي۔ بحرين کے انقلابي نوجوانوں کے اتحاد نے آل خليفہ حکومت کے خلاف انساني حقوق کميشن ميں امريکا اور برطانيہ کي طرف سے ووٹ نہ ديئے جانے پر شديد برہمي کا اظہار کرتے ہوئے واشنگٹن اور لندن کے اس دوہرے معيارکي پاليسي کي مذمت کي اور منامہ ميں امريکي سفارتخانے اور امريکي فوجي اڈے کي جانب جانےوالي سڑکوں پر ٹائر جلاکر کافي دير تک راستوں  کو بند رکھا۔خبروں ميں کہا جارہا ہے کہ امريکا نے بحرين کو ہتھياروں کي سپلائي دوبارہ شروع کردي ہے اور برطانوي حکام نے بھي بحريني حکام سے ملاقات کرکے عوامي مظاہروں کو کچلنے ميں حکومت کي پاليسيوں کي حمايت کا يقين دلايا- برطانوي حکام نے اسي طرح انقلابيوں کے مظاہروں کو کچلنے کي خاطر بحريني سيکورٹي اہلکاروں کو ٹريننگ دينے کي غرض سے برطانوي سيکورٹي افسر کو منامہ روانہ کيا ہے ۔اس دوران بحرين کے انساني حقوق کے مرکز کے سربراہ نبيل رجب نے کہا ہے کہ ملک ميں جمہوريت کي برقراري تک عوام کي جد وجہد جاري رہے گي۔انہوں نے کہا کہ عوام کے خلاف آل خليفہ حکومت کے مظالم پر عالمي برادري، مغرب اور امريکا کي خاموشي بحريني حکومت کو ہري جھنڈي دکھانے کے مترادف ہے کہ وہ عوام کے خلاف اپنے مظالم کا سلسلہ کھلے عام جاري رکھے۔بحرين کي سب سے بڑي اپوزيشن پارٹي جمعيت وفاق ملي نے بھي اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ آل خليفہ حکومت نے پورے ملک ميں ايمرجنسي نافذ کررکھي ہے کہاکہ بحرين ميں انساني حقوق کي کھلے عام پائمالي ہورہي ہے۔.....

/169